تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 79

اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
یا انھوں نے کسی کام کی پختہ تدبیر کر لی ہے؟ تو بے شک ہم بھی پختہ تدبیر کرنے والے ہیں۔ En
کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں
En
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس سے عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے؟ ﴿اَمْرًا یعنی انھوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ ﴿فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لیے اسباب اور دلائل مقرر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ (الانبیاء: 21؍18) بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو حق باطل کا سر توڑ ڈالتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {أم أبرموا}؛ أي: أبرمَ المكذِّبون بالحقِّ المعاندون له {أمراً}؛ أي: كادوا كيداً ومكروا للحقِّ ولمن جاء بالحقِّ ليدحضوه بما موَّهوا من الباطل المزخرف المزوَّق، {فإنَّا مبرِمون}؛ أي: محكمون أمراً ومدبِّرون تدبيراً يعلو تدبيرَهم وينقضُهُ ويبطِلُه. وهو ما قيَّضه الله من الأسباب والأدلَّة لإحقاق الحقِّ وإبطال الباطل؛ كما قال تعالى: {بل نَقْذِفُ بالحقِّ على الباطل فيدمغُهُ}.