تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 78

لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
بلاشبہ ہم تو تمھارے پاس حق لے کر آئے ہیں اور لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ En
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے
En
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وبَّخهم بما فعلوا، فقال: {لقد جئناكم بالحقِّ}: الذي يوجب عليكم أن تتَّبِعوه، فلو تبعْتُموه؛ لفزتُم وسعدتُم، {ولكنَّ أكثركم للحقِّ كارهونَ}: فلذلك شقيتُم شقاوةً لا سعادة بعدها.