تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 77

وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾
اور وہ پکاریں گے اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کردے۔ وہ کہے گا بے شک تم (یہیں) ٹھہرنے والے ہو۔ En
اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے
En
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَنَادَوْا اور وہ پکاریں گے۔ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿یٰمٰلِكُ لِیَقْ٘ضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ جب وہ جہنم کے داروغہ مالک سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمْ مّٰكِثُوْنَ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونادوا}: وهم في النار لعلَّهم يحصل لهم استراحةٌ: {يا مالِكُ ليقضِ علينا ربُّك}؛ أي: لِيُمِتْنا فنستريحَ؛ فإنَّنا في غمٍّ شديدٍ وعذابٍ غليظٍ لا صبر لنا عليه ولا جَلَد، فَـ {قال} لهم مالكٌ خازنُ النار حين طلبوا منه أن يَدْعُوَ الله لهم أن يقضي عليهم: {إنَّكم ماكثونَ}؛ أي: مقيمون فيها لا تخرجون عنها أبداً، فلم يحصُلْ لهم ما قصدوه، بل أجابهم بنقيض قصدِهِم، وزادَهم غمًّا إلى غمِّهم.