تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 68

یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ En
میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے
En
میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہوگے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَلَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثُمَّ ذكر ثواب المتَّقين، وأنَّ الله تعالى يناديهم يوم القيامةِ بما يسرُّ قلوبَهم ويذهب عنهم كلَّ آفةٍ وشرٍّ، فيقول: {يا عبادِ لا خوفٌ عليكُم اليومَ ولا أنتُم تَحْزَنونَ}؛ أي: لا خوفٌ يلحقُكم فيما تستقبِلونه من الأمور، ولا حزنٌ يُصيبُكم فيما مضى منها، وإذا انتفى المكروه من كلِّ وجه؛ ثبت المحبوب المطلوب.