ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 68

یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ En
میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے
En
میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہوگے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68) {يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ …:} قیامت کے دن باہمی محبت کرنے والے متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہے، جن میں سے سب سے پہلی اللہ تعالیٰ کا اے میرے بندو! کہہ کر محبت سے خطاب ہے، پھر خوف اور غم سے مکمل نجات ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 2 یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی اس کی فضیلت ہے۔ بلکہ اللہ کے لئے بغض اور اللہ کے لئے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ اے میرے بندو! آج تمہیں نہ کوئی خوف ہو گا [66] اور نہ تم غمزدہ ہو گے۔
[66] یعنی وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ کی بنا پر دوستی رکھی ہو گی۔ نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کیا ہو گا۔ اللہ کے دین کے قیام کی خاطر آپس میں مشترکہ کوششیں کی ہوں گی۔ دین کے رشتہ کو سب رشتوں اور محبتوں سے مقدم سمجھا ہو گا۔ ایسے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان عام ہو گا۔ کہ آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کا خوف نہیں رکھنا چاہئے اور انہیں اپنی سابقہ زندگی پر کچھ ملال بھی نہ ہو گا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی اللہ کی فرمانبرداری میں گزاری تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَلَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثُمَّ ذكر ثواب المتَّقين، وأنَّ الله تعالى يناديهم يوم القيامةِ بما يسرُّ قلوبَهم ويذهب عنهم كلَّ آفةٍ وشرٍّ، فيقول: {يا عبادِ لا خوفٌ عليكُم اليومَ ولا أنتُم تَحْزَنونَ}؛ أي: لا خوفٌ يلحقُكم فيما تستقبِلونه من الأمور، ولا حزنٌ يُصيبُكم فيما مضى منها، وإذا انتفى المكروه من كلِّ وجه؛ ثبت المحبوب المطلوب.