تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَلْاَخِلَّآءُیَوْمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعْضُهُمْلِبَعْضٍعَدُوٌّ ﴾”ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔“ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّاالْمُتَّقِیْنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإن الأخِلاَّء يومَ القيامةِ، المتخالِّين على الكفر والتكذيب ومعصية الله، {بعضُهم لبعض عدوٌّ}: لأنَّ خُلَّتَهم ومحبَّتهم في الدُّنيا لغير الله، فانقلبت يوم القيامة عداوة {إلاَّ المتَّقين}: للشرك والمعاصي؛ فإنَّ محبَّتهم تدوم وتتَّصل بدوام مَنْ كانت المحبَّة لأجلِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔