تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 66

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
وہ قیامت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آجائے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔ En
یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو
En
یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْ٘عُرُوْنَ قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: ما ينتظر المكذِّبون؟! وما يتوقَّعون {إلاَّ الساعة أن تأتِيَهم بغتةً وهم لا يشعرونَ}؛ أي: فإذا جاءت؛ فلا تسألوا عن أحوال من كَذَّب بها واستهزأ بمن جاء بها.