تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 58

وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور انھوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ انھوں نے تیرے لیے یہ (مثال) صرف جھگڑنے ہی کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ En
اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
En
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ (الانبیاء:21؍98) تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے، پھر تو نے عیسیٰ علیہ السلام اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا: ﴿اِنَّـكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ (الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰ علیہ السلام اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا أآلهتنُا خيرٌ أم هو}؛ يعني: عيسى؛ حيث نُهي عن عبادة الجميع، وشورك بينهم بالوعيد على من عَبَدهم، ونزل أيضاً قوله تعالى: {إنَّكم وما تَعْبُدونَ من دونِ الله حَصَبُ جهنَّمَ أنتُم لها وارِدونَ}. ووجه حجَّتهم الظالمة أنَّهم قالوا: قد تقرَّر عندنا وعندك يا محمدُ أنَّ عيسى من عبادِ الله المقرَّبين الذين لهم العاقبة الحسنة؛ فَلِمَ سوَّيْت بينه وبينها في النهي عن عبادة الجميع؟! فلولا أن حجَّتك باطلةٌ؛ لم تتناقضْ؟! ولم قلت: {إنَّكم وما تعبُدون من دون الله حَصَبُ جهنَّم أنتم لها وارِدونَ}؟! وهذا اللفظ بزعمهم يعمُّ الأصنام وعيسى؛ فهل هذا إلاَّ تناقضٌ؟ وتناقضُ الحجَّة دليلٌ على بطلانها! هذا أنهى ما يقررون به هذه الشبهة الذين فرحوا بها واستبشروا وجعلوا يصدُّون ويتباشرون. وهي ـ ولله الحمدُ ـ من أضعف الشُّبه وأبطلها؛ فإنَّ تسوية الله بين النهي عن عبادة المسيح وبين النهي عن عبادة الأصنام؛ لأنَّ العبادة حقٌّ لله تعالى، لا يستحقُّها أحدٌ من الخلق لا الملائكة المقرَّبون ولا الأنبياء المرسلون ولا من سواهم من الخلق؛ فأيُّ شبهةٍ في تسوية النهي عن عبادة عيسى وغيره؟!