تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم (کے لوگ) اس پر شور مچا رہے تھے۔ En
اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے
En
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی۔ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوْمُكَ تو آپ کی قوم یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنْهُ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿یَصِدُّوْنَ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ولما ضُرِبَ ابنُ مريم مثلاً}؛ أي: نُهي عن عبادته وجُعلت عبادتُه بمنزلة عبادة الأصنام والأنداد، {إذا قومُك}: المكذِّبون لك {منه}؛ أي: من أجل هذا المثل المضروب، {يَصِدُّون}؛ أي: يستلجُّون في خصومتهم لك ويصيحون ويزعُمون أنَّهم قد غَلَبوا في حجَّتهم وأفلجوا.