تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ:} یعنی ان مشرکین نے مسیح علیہ السلام کا ذکر محض جھگڑے کے لیے کیا ہے، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ مسلمان ان کا عزت و تکریم سے ذکر معبود ہونے کے لحاظ سے نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ہونے کے لحاظ سے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی سخت جھگڑالو کہ متکلم کی مراد اپنے پاس سے گھڑ کر جھگڑنا اور شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔
➌ اکثر مفسرین نے ان آیات کی شانِ نزول یہ بیان فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» [الأنبیاء: ۹۸] (بے شک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں) تو عبد اللہ بن زِبَعریٰ کہنے لگا کہ اللہ کے سوا تو عیسیٰ ابن مریم کی پوجا بھی کی جاتی ہے، اگر وہ جہنم میں گئے تو ہمیں اپنے معبودوں کا جہنم میں جانا بھی منظور ہے۔ یہ سنتے ہی مشرکین نے بہت شور مچایا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) لاجواب ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [الأنبیاء: ۱۰۱] ”بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“ اور اس سورت کی آیت (۵۷) نازل ہوئی: «وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ”اور جب ابن مریم کو بطورِ مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ ({”زِبَعْرٰي“} زاء کے کسرہ، باء کے فتحہ اور عین کے سکون کے ساتھ ہے، راء کے بعد الف مقصورہ ہے، یہ عبد اللہ بن زبعری بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ })
یہ تفسیر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔ [دیکھیے مشکل الآثار، باب بیان مشکل ما روي عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم في المراد بقول اللّٰہ عزوجل: «إنکم و ما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جھنم» ، ح: ۹۸۶] مسند احمد میں یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے ان الفاظ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے کہا: [يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فِيْهِ خَيْرٌ] ”اے جماعتِ قریش! حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جاتی جس میں کوئی خیر ہو۔“ انھوں نے کہا: ”اے محمد! کیا تم یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نبی تھا اور اللہ کے بندوں میں سے نیک بندہ تھا، تو اگر تم سچے ہو تو مسیح اور ان کے معبود ایک جیسے ہو گئے۔“ (یہ کہہ کر انھوں نے شور مچانا شروع کر دیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [الزخرف: ۵۷] ”جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ [مسند أحمد: 318/1، ح: ۲۹۲۴] مسند کے محققین نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
واضح رہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی یہ تفسیر اس تفسیر کے خلاف نہیں جو آیات کے سیاق کے لحاظ سے اوپر کی گئی ہے، کیونکہ اصولِ تفسیر میں یہ بات مسلّم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم {”نَزَلَتْ فِيْ كَذَا“} (یہ آیت فلاں کے بارے میں نازل ہوئی) ان واقعات کے متعلق بھی فرما دیتے ہیں جن پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے مواقع پر پہلے اتری ہوئی کوئی آیت پڑھ دیتے تھے۔ ظاہر ہے مشرکین جن کی عادت ہی جھگڑنا اور کج بحثی کرنا تھا، جھگڑنے کا کوئی موقع کم ہی ہاتھ سے جانے دیتے تھے۔ ان مواقع میں سے ایک موقع: «اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» [الأنبیاء: ۹۸] کا نزول بھی تھا، اس پر کفار نے جو شور مچایا، آیت: «وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» اس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[57] یعنی مشرکین ایسی بحث اس لیے نہیں چھیڑتے کہ اگر انہیں معقول جواب مل جائے تو اسے تسلیم کر لیں گے۔ بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ایسی کج بحثی ان کی فطرت میں داخل ہو چکی ہے۔ اور وہ حق بات کو کج بحثیوں میں الجھا کر لوگوں کو حق کے قریب آنے سے روکنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔“
اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98]، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ’ تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے ‘ }۔
اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔
لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں }۔
اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:26]، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔
اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ’ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے ‘۔
سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں }۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں ‘۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف]
{ اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ’ وہ قیامت کا علم ہیں ‘ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا }۔۱؎ [مسند احمد:318/1:حسن]
اللہ فرماتا ہے ’ یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے ‘، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔
ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔۱؎ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ { ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: { اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:58] کی تلاوت فرمائی } }۔[تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا أآلهتنُا خيرٌ أم هو}؛ يعني: عيسى؛ حيث نُهي عن عبادة الجميع، وشورك بينهم بالوعيد على من عَبَدهم، ونزل أيضاً قوله تعالى: {إنَّكم وما تَعْبُدونَ من دونِ الله حَصَبُ جهنَّمَ أنتُم لها وارِدونَ}. ووجه حجَّتهم الظالمة أنَّهم قالوا: قد تقرَّر عندنا وعندك يا محمدُ أنَّ عيسى من عبادِ الله المقرَّبين الذين لهم العاقبة الحسنة؛ فَلِمَ سوَّيْت بينه وبينها في النهي عن عبادة الجميع؟! فلولا أن حجَّتك باطلةٌ؛ لم تتناقضْ؟! ولم قلت: {إنَّكم وما تعبُدون من دون الله حَصَبُ جهنَّم أنتم لها وارِدونَ}؟! وهذا اللفظ بزعمهم يعمُّ الأصنام وعيسى؛ فهل هذا إلاَّ تناقضٌ؟ وتناقضُ الحجَّة دليلٌ على بطلانها! هذا أنهى ما يقررون به هذه الشبهة الذين فرحوا بها واستبشروا وجعلوا يصدُّون ويتباشرون. وهي ـ ولله الحمدُ ـ من أضعف الشُّبه وأبطلها؛ فإنَّ تسوية الله بين النهي عن عبادة المسيح وبين النهي عن عبادة الأصنام؛ لأنَّ العبادة حقٌّ لله تعالى، لا يستحقُّها أحدٌ من الخلق لا الملائكة المقرَّبون ولا الأنبياء المرسلون ولا من سواهم من الخلق؛ فأيُّ شبهةٍ في تسوية النهي عن عبادة عيسى وغيره؟!