تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَمَّاۤاٰسَفُوْنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انْتَقَمْنَامِنْهُمْفَاَغْ٘رَقْنٰهُمْ۠اَجْمَعِیْنَۙ۰۰فَجَعَلْنٰهُمْسَلَفًاوَّمَثَلًالِّلْاٰخِرِیْنَ ﴾”ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔“ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلمَّا آسفونا}؛ أي: أغضبونا بأفعالهم، {انتَقَمْنا منهم فأغْرَقْناهم أجمعين. فجعلناهم سَلَفاً ومثلاً للآخرين}: ليعتبر بهم المعتبرونَ، ويتَّعِظَ بأحوالهم المتَّعظون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔