تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
پھر جب انھوں نے ہمیں سخت غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔ En
جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا
En
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْ٘رَقْنٰهُمْ۠ اَجْمَعِیْنَۙ۰۰ فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا آسفونا}؛ أي: أغضبونا بأفعالهم، {انتَقَمْنا منهم فأغْرَقْناهم أجمعين. فجعلناهم سَلَفاً ومثلاً للآخرين}: ليعتبر بهم المعتبرونَ، ويتَّعِظَ بأحوالهم المتَّعظون.