(آیت 55) {فَلَمَّاۤاٰسَفُوْنَاانْتَقَمْنَامِنْهُمْ …:} اس آیت سے ظاہر ہے کہ غصے ہونا اور انتقام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جیسا کہ راضی ہونا اور انعام دینا اس کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی اور عذاب کے ساتھ بھی انھیں ہلاک کر سکتا تھا، مگر فرعون نے نہروں کے اپنے تحت چلنے پر فخر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی ہی میں غرق کرکے انتقام لیا۔ عموماً انسان جس چیز پر فخر کرتا ہے اللہ کی طرف سے وہی چیز اس کی ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلا دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَمَّاۤاٰسَفُوْنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انْتَقَمْنَامِنْهُمْفَاَغْ٘رَقْنٰهُمْ۠اَجْمَعِیْنَۙ۰۰فَجَعَلْنٰهُمْسَلَفًاوَّمَثَلًالِّلْاٰخِرِیْنَ ﴾”ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔“ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلمَّا آسفونا}؛ أي: أغضبونا بأفعالهم، {انتَقَمْنا منهم فأغْرَقْناهم أجمعين. فجعلناهم سَلَفاً ومثلاً للآخرين}: ليعتبر بهم المعتبرونَ، ويتَّعِظَ بأحوالهم المتَّعظون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔