تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 54

فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۴﴾
غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
En
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاستخفَّ قومَه فأطاعوه}؛ أي: استخفَّ عقولَهم بما أبدى لهم من هذه الشُّبه، التي لا تسمن ولا تغني من جوع، ولا حقيقة تحتها، وليست دليلاً على حقٍّ ولا على باطل، ولا تروج إلاَّ على ضعفاء العقول؛ فأيُّ دليل يدلُّ على أن فرعون محقٌّ لكون ملك مصرَ له وأنهاره تجري من تحته؟! وأيُّ دليل يدلُّ على بطلان ما جاء به موسى لقلَّة أتباعِهِ وثقل لسانِهِ وعدم تحليةِ الله له؟! ولكنَّه لقي ملأ لا معقول عندَهم؛ فمهما قال؛ اتَّبعوه؛ من حقٍّ وباطل. {إنَّهم كانوا قوماً فاسقينَ}: فبسبب فسقِهِم قيَّض لهم فرعونَ، يزيِّن لهم الشركَ والشرَّ.