تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 53

فَلَوۡ لَاۤ اُلۡقِیَ عَلَیۡہِ اَسۡوِرَۃٌ مِّنۡ ذَہَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مُقۡتَرِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾
پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے، یا اس کے ہمراہ فرشتے مل کر کیوں نہیں آئے؟ En
تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے
En
اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوْلَاۤ اُلْ٘قِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال فرعونُ: {فلولا ألْقِيَ عليه أسورةٌ من ذهبٍ}؛ أي: فهلاَّ كان موسى بهذه الحالة: أن يكون مزيناً مجملاً بالحُلِيِّ والأساور، {أو جاء معه الملائكة مقترنين}: يعاونونه على دعوته ويؤيِّدونه على قوله.