تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوْلَاۤاُلْ٘قِیَعَلَیْهِاَسْوِرَةٌمِّنْذَهَبٍ ﴾”پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔“ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوْجَآءَمَعَهُالْمَلٰٓىِٕكَةُمُقْتَرِنِیْنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال فرعونُ: {فلولا ألْقِيَ عليه أسورةٌ من ذهبٍ}؛ أي: فهلاَّ كان موسى بهذه الحالة: أن يكون مزيناً مجملاً بالحُلِيِّ والأساور، {أو جاء معه الملائكة مقترنين}: يعاونونه على دعوته ويؤيِّدونه على قوله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔