تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَمْاَنَاخَیْرٌمِّنْهٰؔذَاالَّذِیْهُوَمَهِیْنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمران علیہ السلام تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾”اور۔“ بایں ہمہ ﴿لَایَكَادُیُبِیْنُ ﴾موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم أنا خيرٌ من هذا الذي هو مَهينٌ}؛ يعني قبَّحه الله بالمَهينِ موسى بن عمران كليم الرحمن الوجيه عند الله؛ أي: أنا العزيز وهو الذَّليل المهان المحتقر؛ فأَيُّنا خيرٌ؟! {و} مع هذا؛ فلا {يكادُ يُبينُ} عما في ضميرِهِ بالكلام؛ لأنَّه ليس بفصيح اللسان، وهذا ليس من العيوب في شيءٍ، إذا كان يُبين ما في قلبِهِ، ولو كان ثقيلاً عليه الكلام.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔