تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 52

اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ ﴿۵۲﴾
تو کیا تم نہیں دیکھتے؟ بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔ En
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
En
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰؔذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمران علیہ السلام تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ اور۔ بایں ہمہ ﴿لَا یَكَادُ یُبِیْنُ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم أنا خيرٌ من هذا الذي هو مَهينٌ}؛ يعني قبَّحه الله بالمَهينِ موسى بن عمران كليم الرحمن الوجيه عند الله؛ أي: أنا العزيز وهو الذَّليل المهان المحتقر؛ فأَيُّنا خيرٌ؟! {و} مع هذا؛ فلا {يكادُ يُبينُ} عما في ضميرِهِ بالكلام؛ لأنَّه ليس بفصيح اللسان، وهذا ليس من العيوب في شيءٍ، إذا كان يُبين ما في قلبِهِ، ولو كان ثقيلاً عليه الكلام.