تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 51

وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی، اس نے کہا اے میری قوم! کیا میرے پاس مصر کی بادشاہی نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے تحت نہیں چل رہیں؟ En
اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
En
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَنَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿یٰقَوْمِ اَلَ٘یْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الْاَنْ٘هٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُ٘بْصِرُوْنَ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونادى فرعونُ في قومه قال}: مستعلياً بباطلِهِ قد غرَّه مُلكه وأطغاه مالُه وجنودُه: {يا قوم أليس لي ملكُ مصرَ}؛ أي: ألست المالك لذلك المتصرف فيه؟ {وهذه الأنهار تجري من تحتي}؛ أي: الأنهار المنسحبة من النيل في وسط القصور والبساتين. {أفلا تبصِرونَ}: هذا الملكَ الطويلَ العريض؟! وهذا من جهله البليغ؛ حيث افتخر بأمرٍ خارج عن ذاته، ولم يفخرْ بأوصافٍ حميدةٍ، ولا أفعال سديدةٍ.