تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 5

اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ En
بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے
En
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی حکمت اور اس کا فضل تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو مہمل اور آزاد نہ چھوڑے، ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتاب نازل کرے، خواہ وہ حد سے گزرنے والے ظالم ہی کیوں نہ ہوں، چنانچہ فرمایا: ﴿اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا یعنی کیا ہم تم لوگوں سے تمھارے اعراض اور عدم اطاعت کی بنا پر منہ موڑ کر تمھاری طرف نصیحت نازل کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں، بلکہ ہم تم پر کتاب نازل کریں گے جس میں تمھارے لیے ہر چیز واضح کریں گے۔ اگر تم ایمان لائے اور راہ راست پر چلے تو یہ تمھیں عطا کی گئی توفیق ہے ورنہ تم پر حجت قائم ہو جائے گی اور تمھارا معاملہ تمھارے سامنے واضح ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر تعالى أنَّ حكمته وفضلَه يقتضي أنْ لا يتركَ عباده هملاً لا يرسل إليهم رسولاً ولا ينزل عليهم كتاباً ولو كانوا مسرفين ظالمين، فقال: {أفنضرِبُ عنكم الذِّكْرَ صفحاً}؛ أي: أفنعرض عنكم ونترك إنزال الذِّكر إليكم ونضرب عنكم صفحاً لأجل إعراضِكم وعدم انقيادِكم [له]، بل ننزل عليكم الكتابَ، ونوضِّح لكم فيه كلَّ شيءٍ؛ فإنْ آمنتُم به واهتديتُم؛ فهو من توفيقِكم، وإلاَّ؛ قامت عليكم الحجَّة، وكنتُم على بيِّنة من أمركم.