تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 4

وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾
اور بے شک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بہت بلند، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے
En
یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنَّهٗ یعنی یہ کتاب ﴿فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے۔ یعنی ملأاعلیٰ میں بلند ترین اور افضل ترین مرتبے میں ہے۔ ﴿لَ٘عَلِیٌّ حَكِیْمٌ یعنی وہ بہت زیادہ قدروشرف اور بلند مقام کی حامل ہے۔ یہ کتاب جن اوامرونواہی اور اخبار پر مشتمل ہے، ان میں حکمت رکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت، عدل اور میزان کے خلاف ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّه}؛ أي: هذا الكتاب {لدينا} في الملأ الأعلى في أعلى الرُّتب وأفضلها {لَعَلِيٌّ حكيمٌ}؛ أي: لعليٌّ في قدره وشرفه ومحله، حكيم فيما يشتمل عليه من الأوامر والنواهي والأخبار؛ فليس فيه حكمٌ مخالفٌ للحكمة والعدل والميزان.