تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انھیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے۔ پس کتنے ہی﴿وَؔكَمْاَرْسَلْنَامِنْنَّبِیٍّفِیالْاَوَّلِیْ٘نَ﴾”نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔“ جو انھیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ﴿وَمَایَ٘اْتِیْهِمْمِّنْنَّبِیٍّاِلَّاكَانُوْابِهٖیَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾ ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ ﴿فَاَهْلَكْنَاۤاَشَدَّمِنْهُمْ ﴾”پس ہم نے انھیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔“ ان لوگوں سے ﴿بَطْشًا ﴾”قوت میں“ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے ﴿وَّمَضٰىمَثَلُالْاَوَّلِیْ٘نَ ﴾ یعنی ان لوگوں کی امثال و اخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمھارے سامنے بیان کر چکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجروتوبیخ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: إنَّ هذه سنَّتُنا في الخلق أن لا نَتْرُكَهم هملاً؛ فكم {أرسَلْنا من نبيٍّ في الأوَّلين}: يأمرونهم بعبادة الله وحده لا شريك له، ولم يزل التكذيبُ موجوداً في الأمم. {وما يأتيهم من نبيٍّ إلاَّ كانوا به يستهزِئونَ}: جَحْداً لما جاء به، وتكبُّراً على الحقِّ، {فأهْلَكْنا أشدَّ} من هؤلاء {بطشاً}؛ أي: قوة وأفعالاً وآثاراً في الأرض، {ومضى مَثَلُ الأوَّلين}؛ أي: مضت أمثالُهم وأخبارُهم وبيَّنَّا لكم منها ما فيه عبرةٌ ومزدجَرٌ عن التكذيب والإنكار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔