تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 48

وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔ En
اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں
En
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 47 میں تا آیت 49 میں گزر چکی ہے۔