تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوْا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿یٰۤاَیُّهَالسّٰحِرُ ﴾”اے جادوگر!“ اس سے ان کی مراد موسیٰ علیہ السلام تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰ علیہ السلام کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے: ﴿یٰۤاَیُّهَالسّٰحِرُادْعُلَنَارَبَّكَبِمَاعَهِدَعِنْدَكَ ﴾”اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔“ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَالَمُهْتَدُوْنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا} عندما نزل عليهم العذاب: {يا أيُّها الساحرُ}: يعنون: موسى عليه السلام، وهذا إمَّا من باب التهكُّم به، وإمَّا أن يكون هذا الخطاب عندهم مدحاً، فتضرَّعوا إليه بأن خاطبوه بما يخاطبون به مَنْ يزعُمون أنَّهم علماؤهم، وهم السحرة، فقالوا: {يا أيها الساحرُ ادعُ لنا ربَّك بما عَهِدَ عندك}؛ أي: بما خصَّك الله به وفضَّلك به من الفضائل والمناقب أن يكشفَ عنَّا العذاب، {إنَّنا لمهتدونَ}: إنْ كشف الله عنَّا ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔