تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 47

فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنۡہَا یَضۡحَکُوۡنَ ﴿۴۷﴾
تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آیا، اچانک وہ ان کے بارے میں ہنس رہے تھے۔ En
جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے
En
پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّؔنْهَا یَضْحَكُوْنَ پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔
یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا جاءهم بآياتِنا إذا هم منها يضحَكونَ}؛ أي: ردُّوها وأنكروها واستهزؤوا بها ظلماً وعلوًّا، فلم يكنْ لقصورٍ بالآيات وعدم وضوح فيها، ولهذا قال: {وما نُريهم من آيةٍ إلاَّ هي أكبرُ من أختِها}؛ أي: الآيةُ المتأخرةُ أعظم من السابقة، {وأخذناهم بالعذاب}: كالجراد والقمل والضفادع والدَّم آياتٍ مفصلاتٍ، {لعلَّهم يرجِعون}: إلى الإسلام ويُذْعِنون له؛ ليزولَ شركهم وشرُّهم.