تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 46

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو اس نے کہا بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں
En
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ (الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا: ﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰؔى بِاٰیٰتِنَاۤ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ سو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما قال تعالى: {واسألْ مَنْ أرسلْنا من قبلك من رسلنا أجَعَلْنا من دونِ الرحمن آلهةً يُعْبَدون}؛ بيَّن تعالى حالَ موسى ودعوتَهُ التي هي أشهرُ ما يكونُ من دَعَوات الرسل، ولأنَّ الله تعالى أكثر من ذِكْرِها في كتابه، فذكر حالَه مع فرعون [فقال]: {ولقد أرْسَلْنا موسى بآياتنا}: التي دلَّت دلالةً قاطعةً على صحَّة ما جاء به؛ كالعصا والحية وإرسال الجراد والقمَّل ... إلى آخر الآيات، {إلى فرعون وملئِهِ فقال إنِّي رسولُ ربِّ العالمين}: فدعاهم إلى الإقرار بربِّهم، ونهاهم عن عبادةِ ما سواه.