تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 23

وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ En
اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں
En
اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت دینے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا۔ یعنی بستی کے وہ لوگ جو نعمتوں سے نوازے گئے تھے اور وہ اشراف جن کو دنیا نے سرکش اور مال و دولت نے مغرور بنا دیا تھا اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے تھے۔ کہا: ﴿اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰ٘رِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھی کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔ پس ان لوگوں کا یہ رویہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ پہلے لوگ ہی ہیں جنھوں نے یہ بات کہی ہو۔ ان گمراہ مشرکین کا اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنانے کا مقصد حق اور ہدایت کی اتباع نہیں، بلکہ یہ تو محض تعصب ہے جس کا مقصد اپنے باطل موقف کی تائید و نصرت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذلك ما أرسلنا من قبلِكَ في قريةٍ من نذيرٍ إلاَّ قال مترفوها}؛ أي: منعَّموها وملؤها الذين أطغَتْهم الدُّنيا وغرَّتهم الأموال واستكبروا على الحقِّ: {إنَّا وجَدْنا آباءنا على أمَّةٍ وإنَّا على آثارهم مقتدون}؛ أي: فهؤلاء ليسوا ببدع منهم، وليسوا بأول من قال هذه المقالة. وهذا الاحتجاج من هؤلاء المشركين الضالِّين بتقليدهم لآبائِهِم الضالِّين ليس المقصودُ به اتباعَ الحقِّ والهدى، وإنَّما هو تعصبٌ محضٌ، يُرادُ به نصرة ما معهم من الباطل.