اس نے کہا اور کیا اگر میں تمھارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا؟انھوں نے کہا بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
En
پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں ہر رسول نے، ایسے لوگوں سے جنھوں نے اس باطل شبہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی، کہا ہے: ﴿ اَوَلَوْجِئْتُكُمْبِاَهْدٰؔىمِمَّاوَجَدْتُّمْعَلَیْهِاٰبَآءَكُمْ ﴾”اگرچہ میں تمھارے پاس ایسا دین لاؤ ں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہ اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔“ یعنی کیا تم ہدایت کی خاطر میری پیروی کرو گے؟ ﴿قَالُوْۤااِنَّابِمَاۤاُرْسِلْتُمْبِهٖكٰفِرُوْنَ ﴾”انھوں نے کہا: جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حق اور ہدایت کی اتباع نہ تھا۔ ان کا مقصد تو صرف باطل اور خواہشات نفس کی پیروی تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا كلُّ رسول يقول لِمَنْ عارَضَه بهذه الشُّبهة الباطلة: {أولو جئتُكم بأهدى ممَّا وَجَدْتُم عليه آباءَكم}؛ أي: أفتتَّبعوني لأجل الهُدى؟ {قالوا إنَّا بما أرْسِلْتُم به كافرونَ}: فعُلِمَ بهذا أنَّهم ما أرادوا اتِّباعَ الحقِّ والهدى، وإنَّما قصدُهم اتِّباع الباطل والهوى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔