تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 22

بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾
بلکہ انھوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔ En
بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں
En
(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہاں، ایک شبہ باقی ہے جو کمزور ترین شبہ ہے اور وہ ہے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلیدجس کی وجہ سے یہ کافر اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے۔ یعنی ایک دین اور ملت پر ﴿وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰ٘رِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ اور ہم انھی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔ اس لیے ہم اس چیز کی پیروی نہیں کریں گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

نعم؛ لهم شبهةٌ من أوهى الشُّبه، وهي تقليد آبائهم الضالِّين، الذين ما زال الكفرة يردُّون بتقليدهم دعوة الرسل، ولهذا قال هنا: {بل قالوا إنَّا وَجَدْنا آباءَنا على أمَّةٍ}؛ أي: على دين وملَّة، {وإنَّا على آثارهم مهتدون}؛ أي: فلا نتَّبع ما جاء به محمدٌ - صلى الله عليه وسلم -.