تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 21

اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ فَہُمۡ بِہٖ مُسۡتَمۡسِکُوۡنَ ﴿۲۱﴾
یا کیاہم نے انھیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے؟ پس وہ اسے مضبوطی سے تھامنے والے ہیں۔ En
یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں
En
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ان کو اس کا کچھ علم نہیں وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔ جس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور وہ شب کو اونٹنی کی مانند ٹیڑھی چال چلتے ہیں۔ ﴿اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ٘ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ۠ کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس سے سند پکڑتے ہیں؟ یعنی جو ان کے افعال کی صحت اور اقوال کی صداقت کے بارے میں خبر دیتی ہو، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے سوا اور کوئی ڈرانے والا ان کے پاس نہیں آیا۔جب عقل و نقل سے دونوں امور کی نفی ثابت ہو گئی، تب وہاں باطل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال: {أم آتيناهُم كتاباً من قبلِهِ فهم به مستمسكون}: يخبِرُهم بصحَّة أفعالهم وصدق أقوالهم؟! ليس الأمر كذلك؛ فإنَّ الله أرسل محمداً نذيراً إليهم، وهم لم يأتهم نذيرٌ غيره؛ أي: فلا عقل ولا نقل، وإذا انتفى الأمران؛ فلا ثَمَّ إلاَّ الباطل.