تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 18

اَوَ مَنۡ یُّنَشَّؤُا فِی الۡحِلۡیَۃِ وَ ہُوَ فِی الۡخِصَامِ غَیۡرُ مُبِیۡنٍ ﴿۱۸﴾
اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟ En
کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟
En
کیا (اللہ کی اوﻻد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَوَمَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْؔحِلْیَةِ کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَ فِی الْخِصَامِ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَیْرُ مُبِیْنٍ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومنها: أنَّ الأنثى ناقصةٌ في وصفها وفي منطقها وبيانها، ولهذا قال تعالى: {أوَمَن يُنَشَّأ في الحِلْيَةِ}؛ أي: يجمَّل فيها لنقص جمالِهِ، فيجمَّل بأمرٍ خارج منه ، {وهو في الخصام}؛ أي: عند الخصام الموجب لإظهارِ ما عند الشخص من الكلام {غيرُ مبينٍ}؛ أي: غير مبينٍ لحجَّته ولا مفصح عمَّا احتوى عليه ضميرُه؛ فكيف ينسبونهنَّ لله تعالى؟!