تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَوَمَنْیُّنَشَّؤُافِیالْؔحِلْیَةِ ﴾”کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔“ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَفِیالْخِصَامِ ﴾ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَیْرُمُبِیْنٍ ﴾ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومنها: أنَّ الأنثى ناقصةٌ في وصفها وفي منطقها وبيانها، ولهذا قال تعالى: {أوَمَن يُنَشَّأ في الحِلْيَةِ}؛ أي: يجمَّل فيها لنقص جمالِهِ، فيجمَّل بأمرٍ خارج منه ، {وهو في الخصام}؛ أي: عند الخصام الموجب لإظهارِ ما عند الشخص من الكلام {غيرُ مبينٍ}؛ أي: غير مبينٍ لحجَّته ولا مفصح عمَّا احتوى عليه ضميرُه؛ فكيف ينسبونهنَّ لله تعالى؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔