(آیت 18) ➊ { اَوَمَنْيُّنَشَّؤُافِيالْحِلْيَةِ …:} اس آیت میں دو وجہوں سے لڑکیوں کا لڑکوں سے کم تر ہونا بیان فرمایا ہے، ایک یہ کہ عورتوں کا حسن زیور وغیرہ کی زینت کا محتاج ہے، اس لیے بچپن ہی سے ان کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے، جب کہ مرد کو اس کی ضرورت نہیں، اس کا حسن ویسے ہی کامل ہے۔ دوسری یہ کہ مرد مضبوط، دلیر اور شجاع ہوتا ہے جو خم ٹھونک کر دشمن کے مقابلے میں اترتا ہے، جب کہ عورت نرم و نازک اور کمزور ہوتی ہے جس کی بہادری یہ ہے کہ جب بس نہ چلے تو رو کر دکھا دے۔ فرمایا ایسی کمزور جنس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہو اور لڑکے جو مردِ میدان اور صاحبِ عزم و ہمت ہوتے ہیں اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ➋ اس آیت سے عورتوں کے لیے زیور کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے سونا اور ریشم پہننا حلال کر دیا گیا جو مردوں کے لیے حرام ہے اور یہ بھی کہ مردوں کو نسوانی آرائش اختیار کرنے سے اجتناب لازم ہے۔ دونوں مسئلوں کی احادیث معروف ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ کیا (اللہ کے لئے وہ اولاد ہے) جو زیور [16] میں پرورش پاتی ہے۔ اور بحث و حجت [17] میں اپنا مدعا واضح بھی نہیں کر سکتی؟
[16] یعنی جس کا فطری لگاؤ ہی چوڑیوں، زیورات، آرائش و زیبائش اور نمائش سے ہوتا ہے۔ جسمانی قوت کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہے۔ ایسی کمزور جنس کو اللہ کی اولاد تجویز کرتے ہیں۔ اور لڑکے جو صاحب عزم و ہمت اور مرد میدان ہوتے ہیں۔ اپنے لیے وہ پسند کرتے ہیں۔ [17] خصم ایسے فریقین مقدمہ کو کہتے ہیں جن کے درمیان اپنے اپنے حقوق کا جھگڑا ہو اور خصام ایسے ہی مقدمہ یا جھگڑا کو کہتے ہیں۔ یعنی عورتیں شور و غل سے ہنگامہ تو خوب پیدا کر سکتی ہیں۔ آپس میں لڑ بھی خوب سکتی ہیں۔ لیکن بحث و جدال کے وقت انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کون سی بات اس کے موقف کی حمایت میں جاتی ہے اور کون سی مخالفت میں۔ نیز وہ غیر متعلقہ باتوں سے تو طوفان اٹھا سکتی ہیں مگر کام کی بات To The Point کم ہی کہتی ہیں۔ نہ وہ یہ بات پوری طرح سمجھ سکتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَوَمَنْیُّنَشَّؤُافِیالْؔحِلْیَةِ ﴾”کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔“ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَفِیالْخِصَامِ ﴾ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَیْرُمُبِیْنٍ ﴾ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومنها: أنَّ الأنثى ناقصةٌ في وصفها وفي منطقها وبيانها، ولهذا قال تعالى: {أوَمَن يُنَشَّأ في الحِلْيَةِ}؛ أي: يجمَّل فيها لنقص جمالِهِ، فيجمَّل بأمرٍ خارج منه ، {وهو في الخصام}؛ أي: عند الخصام الموجب لإظهارِ ما عند الشخص من الكلام {غيرُ مبينٍ}؛ أي: غير مبينٍ لحجَّته ولا مفصح عمَّا احتوى عليه ضميرُه؛ فكيف ينسبونهنَّ لله تعالى؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔