حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھر ا ہوتا ہے۔
En
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے
(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
۴۔ وہ صنف، جس کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی بیٹیاں، تو یہ کمزور ترین اور خود ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند صنف ہے حتیٰ کہ ان کی کراہت کا یہ حال ہے۔ ﴿وَاِذَابُشِّرَاَحَدُهُمْبِمَاضَرَبَلِلرَّحْمٰنِمَثَلًاظَلَّوَجْهُهٗمُسْوَدًّا ﴾”ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی، جسے وہ رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے، خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے“ یعنی سخت ناپسندیدگی اور ناراضی کے باعث اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے۔ ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں کر مقرر کرتے ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
: ومنها: أنَّ الصنف الذي نَسبوه لله ـ وهو البنات ـ أدون الصنفين وأكرههما لهم، حتى إنَّهم من كراهتهم لذلك {إذا بُشِّرَ أحدُهم بما ضَرَبَ للرحمن مثلاً ظلَّ وجهُهُ مسودًّا}؛ من كراهته وشدَّة بغضه؛ فكيف يجعلون لله ما يكرهون؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔