تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصۡفٰکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾
یا اس نے اس (مخلوق) میںسے جسے وہ پید اکرتا ہے (خود) بیٹیاں رکھ لیں اور تمھیں بیٹوں کے لیے چن لیا؟ En
کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے
En
کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

۳۔ کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹیاں کمزور ترین صنف ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیٹیاں ہوں اور ان کو وہ بیٹے عطا کرے اور بیٹوں کے ذریعے سے ان کو فضیلت عطا کرے۔ اس صورت میں تو مخلوق اللہ تعالیٰ سے افضل ہے اور اللہ سے بالاوبلندتر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومنها: أنَّهم يزعُمون أنَّ الملائكةَ بناتُ الله، ومن المعلوم أنَّ البناتِ أدونُ الصنفينِ؛ فكيف يكون لله البناتُ ويصطفيهم بالبنين ويفضِّلهم بها؟! فإذاً؛ يكونون أفضلَ من الله! تعالى اللهُ عن ذلك علوًّا كبيراً!