تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے:
۱۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
۲۔ بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور نعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن شناعةِ قول المشركين الذين جعلوا لله تعالى ولداً، وهو الواحد الأحدُ الفرد الصَّمد، الذي لم يتَّخذ صاحبة ولا ولداً، ولم يكنْ له كفُواً أحدٌ. وأنَّ ذلك باطلٌ من عدة أوجه: منها: أنَّ الخلقَ كلَّهم عباده، والعبوديَّة تنافي الولادة. ومنها: أنَّ الولد جزءٌ من والدِهِ، والله تعالى بائنٌ من خلقِهِ مباينٌ لهم في صفاته ونعوت جلاله، والولدُ جزءٌ من الوالدِ؛ فمحالٌ أن يكون لله تعالى ولدٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔