تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 11

وَ الَّذِیۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ۚ فَاَنۡشَرۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ۚ کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور وہ جس نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔ En
اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے
En
اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مرده شہر کو زنده کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ اور وہ ذات جس نے آسمان سے پانی اتارا اندازے کے ساتھ۔ وہ اس پانی میں کمی بیشی نہیں کرتا نیز پانی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، یہ پانی کم نہیں ہوتا کہ فائدہ مفقود ہو جائے اور نہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جس سے انسانوں اور زمین کو نقصان پہنچے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور اس کے ذریعے سے زمین کو سختی سے بچاتا ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿فَاَنْ٘شَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّؔیْتًا یعنی ہم نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ ﴿كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے سے بنجر اور مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح جب تم اپنے بزرخ کے مرحلے کو پورا کر لو گے، تو وہ تمھیں زندہ کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذي نَزَّلَ من السماءِ ماءً بقدرٍ}: لا يزيدُ ولا ينقُص، ويكون أيضاً بمقدار الحاجةِ؛ لا ينقُصُ بحيث لا يكون فيه نفعٌ، ولا يزيدُ بحيث يضرُّ العباد والبلاد، بل أغاث به العبادَ، وأنقذ به البلادَ من الشدَّة، ولهذا قال: {فأنشَرْنا به بلدةً ميتاً}؛ أي: أحييناها بعد موتها، {كذلك تُخْرَجونَ}؛ أي: فكما أحيا الأرض الميتة الهامدة بالماء؛ كذلك يحييكم بعدما تستكملونَ في البرزخ ليجازِيَكم بأعمالكم.