تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 12

وَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا وَ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡفُلۡکِ وَ الۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡکَبُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
اور وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ En
اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو
En
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا اور وہ ذات جس نے تمام چیزوں کے جوڑے پیدا کیے۔ یعنی وہ تمام اصناف جو زمین سے اگتی ہیں، خود ان کی ذات میں اور ان تمام اشیاء میں سے جن کا انھیں علم نہیں، مثلاً: رات دن، گرمی سردی اور مذکر مونث وغیرہ میں سے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ اور تمھارے لیے کشتیاں بنائیں یعنی تمام بادبانی اور دخانی کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ ﴿وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْؔكَبُوْنَۙ ۰۰ ﴾اور چوپائے بھی جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذي خَلَقَ الأزواجَ كلَّها}؛ أي: الأصناف جميعها مما تُنْبِتُ الأرض ومن أنفسِهم ومما لا يعلمون؛ من ليل ونهار، وحرٍّ وبرد، وذكر وأنثى ... وغير ذلك، {وجعل لكم من الفُلْكِ}؛ أي: السفن البحريَّة الشراعيَّة والناريَّة ما تركبون، {و} من {الأنعام ما تركبونَ}.