تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 10

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم راہ پاؤ۔ En
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو
En
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی کامل نعمت و اقتدار پر دلالت کرتے ہیں، زمین کی اشیاء کو دلیل بنایا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیں، اس زمین کو بندوں کے لیے ٹھکانا بنایا جہاں وہ ہر اس چیز پر متمکن ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ ﴿وَّجَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنا دیے۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے درمیان گزر گاہیں بنائیں جہاں سے گزر کر تم ان پہاڑوں کے پاس واقع ممالک کو جاتے ہو۔ ﴿لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ تا کہ تم ان راستوں پر سفر کے دوران راہ پاؤ اور ضائع نہ ہو جاؤ اور تاکہ تم اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر أيضاً من الأدلَّة الدالَّة على كمال نعمته واقتداره بما خَلَقه لعباده من الأرض التي مَهَدها وجعلها قراراً للعباد يتمكَّنون فيها من كلِّ ما يريدون، {وجَعَلَ لكم فيها سُبُلاً}؛ أي: جعل منافذ بين سلاسل الجبال المتَّصلة تنفُذون منها إلى ما ورائها من الأقطار، {لعلَّكم تهتدونَ}: في السير في الطرق ولا تضيعون، ولعلَّكم أيضاً تهتدون في الاعتبار بذلك والادِّكار فيه.