اور بلا شبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا ضرور کہیں گے کہ انھیں سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔
En
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَلَىِٕنْسَاَلْتَهُمْمَّنْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَلَیَقُوْلُ٘نَّخَ٘لَ٘قَ٘هُنَّالْ٘عَزِیْزُالْعَلِیْمُ﴾”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غالب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کر سکتی ہیں نہ رزق عطا کر سکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن المشركين أنَّك لو {سألتَهم مَنْ خَلَقَ السمواتِ والأرضَ ليقولنَّ}: الله وحدَه لا شريك له. {العزيز}: الذي دانت لعزَّته جميع المخلوقات. {العليم}: بظواهر الأمور وبواطنها وأوائلها وأواخراها. فإذا كانوا مقرِّين بذلك؛ فكيف يجعلون له الولدَ والصاحبةَ والشريكَ؟! وكيف يشركون به من لا يَخْلُقُ ولا يرزقُ ولا يميتُ ولا يحيي؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔