اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ اس( آگ) پر پیش کیے جائیں گے، ذلت سے جھکے ہو ئے ،چھپی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔ سن لو! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔
En
اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور مومن لوگ کہیں کے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ دیکھو کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے
اور تو انہیں دیکھے گا کہ وه (جہنم کے) سامنے ﻻکھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جارہے ہوں گے اور کنکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، ایمان والے صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاںکار وه ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ یقیناً ﻇالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَتَرٰىهُمْیُعْرَضُوْنَعَلَیْهَا ﴾”اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آگ) کے سامنے لائے جائیں گے۔“﴿خٰشِعِیْنَمِنَالذُّلِّ ﴾ یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بے بس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ﴿یَنْظُ٘رُوْنَمِنْطَرْفٍخَ٘فِیٍّ ﴾ یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ ﴿وَقَالَالَّذِیْنَاٰمَنُوْۤا ﴾ جب مخلوق کا انجام ظاہر اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے، تو اہل ایمان کہیں گے: ﴿اِنَّالْخٰؔسِرِیْنَ ﴾ حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِیْنَخَسِرُوْۤااَنْفُسَهُمْوَاَهْلِیْهِمْیَوْمَالْقِیٰمَةِ ﴾”جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔“ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو بے پایاں ثواب سے محروم کر لیا اور دردناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔
﴿اَلَاۤاِنَّالظّٰلِمِیْنَ ﴾”آگاہ رہو! بے شک ظالم ہی۔“ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فِیْعَذَابٍمُّقِیْمٍ ﴾”ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔“ یعنی وہ دردناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہو گا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وتراهم يُعْرَضونَ عليها}؛ أي: على النار {خاشعينَ من الذُّلِّ}؛ أي: ترى أجسامَهم خاشعةً للذُّلِّ الذي في قلوبهم، {ينظُرونَ من طرفٍ خفيٍّ}؛ أي: ينظرون إلى النار مسارقةً وشزراً من هيبتها وخوفِها، {وقال الذين آمنوا}: حين ظهرتْ عواقبُ الخلق وتبيَّنَ أهلُ الصدق من غيرِهم: {إنَّ الخاسرينَ}: على الحقيقة، {الذين خَسِروا أنفسَهم وأهليهم يوم القيامةِ}: حيث فوَّتوا أنفسَهم جزيل الثواب وحصلوا على أليم العقاب وفُرِّقَ بينهم وبين أهليهم فلم يجتمعوا بهم آخر ما عليهم. {ألا إنَّ الظالمينَ}: أنفسَهم بالكفر والمعاصي {في عذابٍ مقيم}؛ أي: في سوائه ووسطه منغمِرين لا يخرُجون منه أبداً، ولا يُفَتَّرُ عنهم وهم فيه مُبْلِسونَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔