تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 46

وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ اَوۡلِیَآءَ یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۶﴾
اور ان کے لیے کوئی حمایتی نہیں ہوں گے جو اللہ کے سوا ان کی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں۔ En
اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی رستہ نہیں
En
ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کرسکیں اور جسے اللہ گمراه کردے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَؔ یَنْصُرُوْنَهُمْ۠ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے۔ پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انھوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہو گئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ان پر سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ ﴿وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍ اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما كان لهم من أولياءَ يَنصُرونَهم من دونِ الله}: كما كانوا في الدُّنيا يُمَنُّون أنفسَهم بذلك ؛ ففي القيامةِ يتبيَّن لهم ولغيرِهم أنَّ أسبابهم التي أمَّلوها تقطَّعت، وأنَّه حين جاءهم عذابُ الله لم يُدْفَعْ عنهم، {ومن يُضْلِلِ الله فما له مِن سبيل}: تحصُلُ به هدايتُه؛ فهؤلاء ضلُّوا حين زعموا في شركائِهِم النفعَ ودفعَ الضُّرِّ، فتبيَّن حينئذٍ ضلالُهم.