اور جسے اللہ گمراہ کر دے، پھر اس کے بعد اس کا کوئی مددگار نہیں اور تو ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپس جانے کی طرف کوئی راستہ ہے۔
En
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چاره ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ﻇالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راه ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں یکتا ہے۔ ﴿وَمَنْیُّضْلِلِاللّٰهُ ﴾ جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے۔ ﴿فَمَالَهٗمِنْوَّلِیٍّمِّنْۢبَعْدِهٖ﴾”تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔“ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہ نمائی کرے۔ ﴿وَتَرَىالظّٰلِمِیْنَلَمَّارَاَوُاالْعَذَابَ ﴾ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کرتوتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ ﴿یَقُوْلُوْنَهَلْاِلٰىمَرَدٍّمِّنْسَبِیْلٍ﴾ اور کہیں گے: کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لیے ہو گی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه المنفرد بالهداية والإضلال، وأنَّه {مَنْ يُضْلِل اللهُ}: بسبب ظلمه {فما له من وليٍّ من بعدِهِ}: يتولَّى أمره ويهديه، {وترى الظالمين لمَّا رأوا العذابَ}: مرأى ومنظراً فظيعاً صعباً شنيعاً يُظْهِرونَ النَّدم العظيم والحزنَ على ما سَلَفَ منهم، و {يقولونَ هل إلى مَرَدٍّ من سبيل}؛ أي: هل لنا طريقٌ أو حيلةٌ إلى رجوعنا إلى الدُّنيا لنعملَ غير الذي كنَّا نعملُ، وهذا طلبٌ للأمر المُحال الذي لا يمكنُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔