تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر۔ ﴿وَمَاۤاَنْتُمْبِمُعْجِزِیْنَفِیالْاَرْضِ ﴾”اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔“ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَالَكُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِمِنْوَّلِیٍّ ﴾”اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔“ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَانَصِیْرٍ ﴾”اور نہ مددگار“ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وليس إهمالاً منه تعالى تأخيرُ العقوباتِ ولا عجزاً: فما {أنتُم بمعجزينَ في الأرض}؛ أي: معجزينَ قدرةَ الله عليكم، بل أنتم عاجزون في الأرض، ليس عندكم امتناعٌ عما ينفذه الله فيكم، {وما لكم من دونِ الله من وليٍّ}: يتولاَّكم، فيحصِّل لكم المنافع {ولا نصيرٍ}: يدفع عنكم المضارَّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔