تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 31

وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۚۖ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۳۱﴾
اور نہ تم زمین میں(اللہ کو)کسی صورت عاجز کرنے والے ہو اور نہ اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ En
اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
En
اور تم ہمیں زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو، تمہارے لیے سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر۔ ﴿وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِیْرٍ اور نہ مددگار جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وليس إهمالاً منه تعالى تأخيرُ العقوباتِ ولا عجزاً: فما {أنتُم بمعجزينَ في الأرض}؛ أي: معجزينَ قدرةَ الله عليكم، بل أنتم عاجزون في الأرض، ليس عندكم امتناعٌ عما ينفذه الله فيكم، {وما لكم من دونِ الله من وليٍّ}: يتولاَّكم، فيحصِّل لكم المنافع {ولا نصيرٍ}: يدفع عنكم المضارَّ.