تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 32

وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الۡجَوَارِ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ؕ۳۲﴾
اور اسی کی نشانیوں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں، جو پہاڑوں جیسے ہیں۔ En
اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)
En
اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ سمندر میں جہاز کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالْاَعْلَامِ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن أدلَّة رحمته وعنايته بعباده {الجواري في البحر}: من السُّفن والمراكب الناريَّة والشراعيَّة التي من عظمها {كالأعلامِ}، وهي الجبالُ الكبارُ التي سخَّر لها البحر العجاج، وحفظها من التطام الأمواج، وجعلها تحمِلُكم وتحمِلُ أمتعتَكم الكثيرةَ إلى البلدان والأقطارِ البعيدة، وسخَّر لها من الأسباب ما كان معونةً على ذلك.