تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 30

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾
اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے۔ En
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
En
تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کابدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے، اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ (فاطر:35؍45) اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه ما أصاب العبادَ من مصيبةٍ في أبدانهم وأموالهم وأولادهم وفيما يحبُّون ويكون عزيزاً عليهم إلاَّ بسبب ما قدَّمته أيديهم من السيئاتِ، وأنَّ ما يعفو الله عنه أكثرُ؛ فإنَّ الله لا يظلم العبادَ، ولكن أنفسَهم يظلمونَ، {ولو يؤاخِذُ اللهُ الناس بما كَسَبوا ما تَرَكَ على ظهرها من دابَّةٍ}.