تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 29

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَثَّ فِیۡہِمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی جَمۡعِہِمۡ اِذَا یَشَآءُ قَدِیۡرٌ ﴿٪۲۹﴾
اور اسی کی نشانیوں میںسے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور وہ جو اس نے ان دونوںمیں کوئی بھی جاندار پھیلادیے ہیں اور وہ ان کو اکٹھا کرنے پر جب چاہے پوری طرح قادر ہے۔ En
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
En
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمِنْ اٰیٰتِهٖاور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مُردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿ خَلْ٘قُ پیدائش ان ﴿السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ آسمانوں اور زمین کی۔ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں مہارت اور مضبوطی ہے، وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔
﴿وَمَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لیے منافع اور مصالح قرار دیا۔ ﴿وَهُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے موقف کے لیے جمع کرنے پر ﴿اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ جب چاہے، خوب قادر ہے پس اس کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقوف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کے وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن أدلَّة قدرتِهِ العظيمة وأنَّه سيُحيي الموتى بعد موتهم: {خَلْقُ} هذه {السمواتِ والأرضِ}؛ على عِظَمِهما وسعتهما، الدالُّ على قدرته وسعة سلطانه، وما فيهما من الإتقان والإحكام دالٌّ على حكمته، وما فيهما من المنافع والمصالح دالٌّ على رحمتِهِ، وذلك يدلُّ على أنَّه المستحقُّ لأنواع العبادة كلِّها، وأنَّ إلهيَّة ما سواه باطلةٌ. {وما بثَّ فيهما}؛ أي: نشر في السماواتِ والأرض من أصناف الدوابِّ، التي جعلها الله مصالحَ ومنافعَ لعبادِهِ. {وهو على جمعهم}؛ أي: جمع الخلق بعد موتِهِم لموقفِ القيامةِ {إذا يشاءُ قديرٌ}: فقدرتُه ومشيئتُه صالحان لذلك، ويتوقَّف وقوعُه على وجود الخبر الصادق، وقد عُلم أنَّه قد تواترت أخبار المرسلين وكتبهم بوقوعه.