تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 28

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَ یَنۡشُرُ رَحۡمَتَہٗ ؕ وَ ہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۸﴾
اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی مدد کرنے والا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ En
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
En
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَهُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَیَنْ٘شُ٘رُ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحْمَتَهٗ اپنی رحمت کو۔ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الْوَلِیُّ اور وہی کارساز ہے۔ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الْحَمِیْدُ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو الذي يُنَزِّل الغيثَ}؛ أي: المطر الغزير الذي به يغيثُ البلاد والعباد {من بعدِ ما قَنَطوا}: وانقطع عنهم مُدَّةً ظنُّوا أنه لا يأتيهم، وأيسوا، وعملوا لذلك الجدب أعمالاً، فينزِلُ الله الغيث، {وينشُرُ} به {رحمتَه} من إخراج الأقواتِ للآدميِّين وبهائمهم، فيقع عندهم موقعاً عظيماً، ويستبشرون بذلك ويفرحون. {وهو الوليُّ}: الذي يتولَّى عباده بأنواع التَّدبير، ويتولَّى القيام بمصالح دينهم ودنياهم {الحميد}: في ولايته وتدبيره، الحميد على ما له من الكمال وما أوصله إلى خلقه من أنواع الأفضال.