اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔
En
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَوْبَسَطَاللّٰهُالرِّزْقَلِعِبَادِهٖلَبَغَوْافِیالْاَرْضِ ﴾”اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنْیُّنَزِّلُبِقَدَرٍمَّایَشَآءُ ﴾”لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗبِعِبَادِهٖخَبِیْرٌۢبَصِیْرٌ ﴾”یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔“ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔“ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر أن من لطفِهِ بعبادِهِ أنَّه لا يوسِّع عليهم الدُّنيا سعةً تضرُّ بأديانهم، فقال: {ولو بَسَطَ الله الرزقَ لعبادِهِ لَبَغَوْا في الأرض}؛ أي: لغفلوا عن طاعة الله، وأقبلوا على التمتُّع بشهوات الدُّنيا، فأوجبت لهم الإكباب على ما تشتهيه نفوسُهم، ولو كان معصيةً وظلماً. {ولكن يُنَزِّلُ بَقَدَرٍ ما يشاءُ}: بحسب ما اقتضاه لطفُه وحكمتُه، {إنَّه بعباده خبيرٌ بصيرٌ}: كما في بعض الآثار أنَّ الله تعالى يقول: «إنَّ مِنْ عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الغنى، ولو أفقرتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الفقرُ، ولو أغنيته؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ الصحةُ، ولو أمرضتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ المرضُ، ولو عافيتُه؛ لأفسده ذلك، إنِّي أدبِّر أمر عبادي بعلمي بما في قلوبهم، إني خبيرٌ بصيرٌ».
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔