تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ “} میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کر دیتا، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کر دیا۔ چنانچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہلِ ایمان کے لیے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔
➌ آیت کے الفاظ {” وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ “} مومن و کافر دونوں کے لیے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۲) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے۔ رہے وہ لوگ جو رزق کی فراخی کی وجہ سے زمین میں فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔
➍ { وَ لٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۱) اور رعد (۸) اور سورۂ قمر (۴۹)کی تفسیر۔
➎ { اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۳۰) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر أن من لطفِهِ بعبادِهِ أنَّه لا يوسِّع عليهم الدُّنيا سعةً تضرُّ بأديانهم، فقال: {ولو بَسَطَ الله الرزقَ لعبادِهِ لَبَغَوْا في الأرض}؛ أي: لغفلوا عن طاعة الله، وأقبلوا على التمتُّع بشهوات الدُّنيا، فأوجبت لهم الإكباب على ما تشتهيه نفوسُهم، ولو كان معصيةً وظلماً. {ولكن يُنَزِّلُ بَقَدَرٍ ما يشاءُ}: بحسب ما اقتضاه لطفُه وحكمتُه، {إنَّه بعباده خبيرٌ بصيرٌ}: كما في بعض الآثار أنَّ الله تعالى يقول: «إنَّ مِنْ عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الغنى، ولو أفقرتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الفقرُ، ولو أغنيته؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ الصحةُ، ولو أمرضتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ المرضُ، ولو عافيتُه؛ لأفسده ذلك، إنِّي أدبِّر أمر عبادي بعلمي بما في قلوبهم، إني خبيرٌ بصيرٌ».