ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 27

وَ لَوۡ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۷﴾
اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔ En
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
En
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وه زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وه اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ وه اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) ➊ { وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ:} یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عملِ صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر رزق کی تنگی کیوں ہے؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خرید و فروخت غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے کے مطابق ان کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے، کیونکہ عام طور پر آدمی جب غنی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى (6) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى» [العلق: 7،6] ہرگز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔ اور مال و دولت کی کثرت اسے لوگوں پر زیادتی پر ابھارتی ہے۔ قارون اور فرعون کا حال دیکھ لو! اگر ان کے پاس اتنی دولت نہ ہوتی تو اس طرح برباد نہ ہوتے۔ اس لیے مومنوں کے حق میں خیر یہی ہے کہ ان کا رزق زیادہ فراخ نہ کیا جائے، اگرچہ اس کے خیر ہونے کا پورا ادراک انھیں دیر سے یعنی قیامت کے دن ہو گا۔ اس کے علاوہ مال کی کمی کا مومن کو ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اسے عملِ صالح کے لیے فراغت حاصل رہتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مشغول رہ کر آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے جزیے کا مال لے کر آئے تو انصار صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے اور بعد میں آپ کے سامنے آ بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: [أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ؟ قَالُوْا أَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَأَبْشِرُوْا وَأَمِّلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللّٰهِ! لاَ الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ، وَلٰكِنْ أَخْشٰی عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أھل الذمۃ والحرب: ۳۱۵۸] میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو خوش ہو جاؤ اور خوش کرنے والی چیزوں کی امید رکھو، پس اللہ کی قسم! میں تم پر فقیری سے تو ڈرتا ہی نہیں، بلکہ تم پر اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کر دی گئی، تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس میں رغبت کرنے لگو، جیسا کہ انھوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں رغبت کی اور وہ تمھیں اسی طرح ہلاک کر دے جس طرح اس نے انھیں ہلاک کر دیا۔
➋ { وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ } میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کر دیتا، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کر دیا۔ چنانچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہلِ ایمان کے لیے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔
➌ آیت کے الفاظ { وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ } مومن و کافر دونوں کے لیے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۲) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے۔ رہے وہ لوگ جو رزق کی فراخی کی وجہ سے زمین میں فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔
➍ { وَ لٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۲۱) اور رعد (۸) اور سورۂ قمر (۴۹)کی تفسیر۔
➎ { اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۳۰) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یعنی اللہ ہر شخص کی حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شرو فساد اور دشمنی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کو وافر رزق عطا کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی سے اودھم [41] مچا دیتے۔ مگر وہ ایک اندازے سے جتنا رزق چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے، انہیں دیکھ رہا ہے۔
[41] رزق کی کمی بیشی میں اللہ کی حکمتیں :۔
پنجابی زبان کی ایک مختصر سی مثال اس آیت کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔ مثال یہ ہے ’رج آؤن تے کد آؤن‘ یعنی ایک عام دنیادار انسان کی عادت یہ ہے کہ اگر اللہ اسے خوشحالی سے ہمکنار کرے تو وہ کسی کو بھی حتیٰ کہ اللہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور سرکشی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یہی صورت حال سرداران قریش کی تھی جو دیہاتی قبائل عرب کی نسبت خوشحال تھے اور اسی خوشحالی نے ان کے دماغوں کو خراب کر رکھا تھا اور اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ اگر اللہ سارے ہی لوگوں کو وافر رزق عطا کر دے تو اس سے اس کے خزانوں میں تو کچھ کمی نہ آئے گی۔ لیکن لوگ دولت کی مستی میں ہر جگہ اودھم مچا دیں گے۔ اور ایک دوسرے کا جینا بھی حرام کر دیں گے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اپنے اندازے اور اپنی حکمت کے مطابق رزق مہیا کرتا ہے۔ تاکہ لوگ اپنے آپے سے باہر نہ ہوں اور دنیا کا نظام بھی ٹھیک طور پر چلتا رہے۔ امیر کام لینے کے لیے غریبوں کے محتاج رہیں اور غریب امیروں کے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر أن من لطفِهِ بعبادِهِ أنَّه لا يوسِّع عليهم الدُّنيا سعةً تضرُّ بأديانهم، فقال: {ولو بَسَطَ الله الرزقَ لعبادِهِ لَبَغَوْا في الأرض}؛ أي: لغفلوا عن طاعة الله، وأقبلوا على التمتُّع بشهوات الدُّنيا، فأوجبت لهم الإكباب على ما تشتهيه نفوسُهم، ولو كان معصيةً وظلماً. {ولكن يُنَزِّلُ بَقَدَرٍ ما يشاءُ}: بحسب ما اقتضاه لطفُه وحكمتُه، {إنَّه بعباده خبيرٌ بصيرٌ}: كما في بعض الآثار أنَّ الله تعالى يقول: «إنَّ مِنْ عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الغنى، ولو أفقرتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاّ الفقرُ، ولو أغنيته؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ الصحةُ، ولو أمرضتُه؛ لأفسده ذلك، وإنَّ من عبادي من لا يُصْلِحُ إيمانَه إلاَّ المرضُ، ولو عافيتُه؛ لأفسده ذلك، إنِّي أدبِّر أمر عبادي بعلمي بما في قلوبهم، إني خبيرٌ بصيرٌ».