اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذَاۤاَنْعَمْنَاعَلَىالْاِنْسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعْرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰبِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَامَسَّهُالشَّرُّ ﴾”اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔“ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوْدُعَآءٍعَرِیْضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا أنْعَمْنا على الإنسان}: بصحَّة أو رزقٍ أو غيرهما {أعرضَ}: عن ربِّه وعن شكرِهِ، {ونأى}؛ أي: ترفَّع {بجانبِهِ}: عجباً وتكبراً، {وإذا مسَّه الشرُّ}: أي: المرضُ أو الفقرُ أو غيرُهما {فذو دعاءٍ عريضٍ}؛ أي: كثير جدًّا؛ لعدم صبره؛ فلا صبر في الضرَّاء ولا شكر في الرَّخاء؛ إلاَّ مَنْ هداه الله ومنَّ عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔