تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 51

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾
اور جب ہم انسان پر انعا م کرتے ہیں وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو(لمبی) چوڑی دعا والا ہے۔ En
اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
En
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعْرَضَ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا أنْعَمْنا على الإنسان}: بصحَّة أو رزقٍ أو غيرهما {أعرضَ}: عن ربِّه وعن شكرِهِ، {ونأى}؛ أي: ترفَّع {بجانبِهِ}: عجباً وتكبراً، {وإذا مسَّه الشرُّ}: أي: المرضُ أو الفقرُ أو غيرُهما {فذو دعاءٍ عريضٍ}؛ أي: كثير جدًّا؛ لعدم صبره؛ فلا صبر في الضرَّاء ولا شكر في الرَّخاء؛ إلاَّ مَنْ هداه الله ومنَّ عليه.