اور یقینا اگر ہم اسے کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو، اپنی طرف سے کسی رحمت کامزہ چکھائیں تو ضرور ہی کہے گا یہ میرا حق ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو نے والی ہے اور اگر واقعی مجھے اپنے رب کی طر ف واپس لے جایا گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس ضرور بھلائی ہے۔ پس ہم یقینا ان لوگوں کو جنھوںنے کفر کیا ضرور بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا اور یقینا ہم انھیں ایک سخت عذاب میں سے ضرور چکھائیں گے۔
En
اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزه چکھائیں تو وه کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزه چکھائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنْاَذَقْنٰهُ ﴾”اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔“ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحْمَةًمِّؔنَّا ﴾”اپنی طرف سے رحمت۔“ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔
تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے: ﴿هٰؔذَالِیْ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤاَ٘ظُ٘نُّالسَّاعَةَقَآىِٕمَةً ﴾”اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی“ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔
﴿وَّلَىِٕنْرُّجِعْتُاِلٰىرَبِّیْۤاِنَّلِیْعِنْدَهٗلَلْحُسْنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠الَّذِیْنَكَفَرُوْابِمَاعَمِلُوْا١ٞوَلَنُذِیْقَنَّهُمْمِّنْعَذَابٍغَلِیْظٍ ﴾”پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔“ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {ولئِنْ أذَقْناه}؛ أي: الإنسان الذي لا يسأم من دُعاء الخير وإن مسَّه الشرُّ فيؤوسٌ قنوطٌ {رحمةً منَّا}؛ أي: بعد ذلك الشرِّ الذي أصابه؛ بأنْ عافاه الله من مرضِهِ أو أغناه من فقرِهِ؛ فإنَّه لا يشكر الله تعالى؛ بل يبغي ويطغى ويقول: {هذا لي}؛ أي: أتاني لأنِّي له أهلٌ وأنا مستحقٌّ له، {وما أظنُّ الساعةَ قائمةً}، وهذا إنكارٌ منه للبعث، وكفرٌ للنعمة والرحمة التي أذاقها الله له، {ولئن رُجِعْتُ إلى ربِّي إنَّ لي عنده للحُسْنى}؛ أي: على تقدير إتيان الساعة، وأنِّي سأرجع إلى ربي؛ إنَّ لي عنده للحسنى؛ فكما حصلت لي النعمة في الدُّنيا؛ فإنَّها ستحصُلُ لي في الآخرة! وهذا من أعظم الجرأة والقول على الله بلا علم؛ فلهذا توعَّده [اللَّهُ] بقولِهِ: {فَلَنُنَبِّئَنَّ الذين كفروا بما عَمِلوا ولَنُذيقَنَّهم من عذابٍ غليظٍ}؛ أي: شديد جدًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔