تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 49

لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿۴۹﴾
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اسے کوئی برائی آ پہنچے تو بہت مایوس، نہایت ناامید ہوتا ہے۔ En
انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے
En
بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا یَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔ یعنی بیماری،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَیَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ عن طبيعة الإنسان من حيثُ هو، وعدم صبرِه وجَلَدِه، لا على الخير ولا على الشرِّ، إلاَّ مَن نقله الله من هذه الحال إلى حال الكمال، فقال: {لا يسأمُ الإنسانُ من دعاءِ الخيرِ}؛ أي: لا يملُّ دائماً من دعاء الله في الغنى والمال والولدِ وغير ذلك من مطالب الدُّنيا، ولا يزال يعملُ على ذلك، ولا يقتنعُ بقليل ولا بكثيرٍ منها؛ فلو حصل له من الدُّنيا ما حصل؛ لم يزل طالباً للزيادة. {وإن مَسَّهُ الشرُّ}؛ أي: المكروه كالمرض والفقر وأنواع البلايا، {فَيؤوسٌ قنوطٌ}؛ أي: ييأس من رحمة الله تعالى، ويظنُّ أن هذا البلاء هو القاضي عليه بالهلاكِ، ويتشوَّشُ من إتيان الأسبابِ على غير ما يحبُّ ويطلبُ؛ إلاَّ الذين آمنوا وعملوا الصالحات؛ فإنَّهم إذا أصابهم الخيرُ والنعمةُ والمحابُّ؛ شكروا الله تعالى، وخافوا أن تكونَ نعمُ الله عليهم استدراجاً وإمهالاً، وإن أصابتْهم مصيبةٌ في أنفسهم وأموالهم وأولادِهم؛ صبروا ورَجَوا فضل ربِّهم فلم ييأسوا.