تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ: ” الْخَيْرِ “} سے مراد دنیوی بھلائی ہے جس میں مال، اولاد، عزت، صحت اور قوت سبھی کچھ شامل ہے۔ {” دُعَآءِ “} سے مراد خیر کی طلب ہے، یعنی انسان دنیوی بھلائی کی طلب سے نہ اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہے، خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَّالٍ لاَبْتَغٰی ثَالِثًا، وَ لاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰی مَنْ تَابَ] [بخاري، الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال: ۶۴۳۶] ”اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ کوئی تیسری تلاش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ اس پر پھر مہربان ہو جاتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔“
➌ {وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ: ”مَسَّ يَمَسُّ“} (س) چھونا۔ {” فَيَـُٔوْسٌ “ ”يَئِسَ يَيْئَسُ يَأْسًا “} (س، ح) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ {” قَنُوْطٌ “ ”قَنِطَ يَقْنَطُ قَنُوْطًا“} (س، ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت ناامید۔ بعض مفسرین نے فرمایا {” فَيَـُٔوْسٌ “} اور {” قَنُوْطٌ “} دونوں کا معنی ایک ہے، تاکید کے لیے {” فَيَـُٔوْسٌ “} کے بعد {” قَنُوْطٌ “} لایا گیا ہے اور بعض نے فرمایا، دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ ابوحیان نے فرمایا: {”يَأْسٌ“} دل کی حالت ہے کہ آدمی کا دل خیر کی امید سے خالی ہو جائے اور {”قَنُوْطٌ“} یہ ہے کہ ناامیدی کے آثار اس کے چہرے اور بدن پر بھی ظاہر ہو جائیں۔“ ظاہر ہے یہ فرق اس وقت ہے جب یہ دونوں لفظ اکٹھے آئیں، ورنہ یاس اور قنوط دونوں میں قلبی اور بدنی ہر طرح کی ناامیدی مراد ہوتی ہے، جیسا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے۔ {”مَسٌّ“} (چھونے) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ کافر اتنا بے حوصلہ ہوتا ہے کہ برائی چھو جانے ہی سے آخری حد تک امید توڑ بیٹھتا ہے۔ مومن ایسا نہیں ہوتا، یہ صرف کافر کا حال ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ» [یوسف: ۸۷] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے ایک اور آیت میں ہے «كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ» ۱؎ [96-العلق:7،6] یعنی ’ انسان نے جہاں آسائش و آرام پایا وہیں اس نے سر اٹھایا اور سرکشی کی ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اتنا ہی نہیں بلکہ اس بداعمالی پر بھلی امیدیں بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بالفرض اگر قیامت آئی بھی اور میں وہاں اکٹھا بھی کیا گیا تو جس طرح یہاں سکھ چین میں ہوں وہاں بھی ہوں گا ‘۔ غرض انکار قیامت بھی کرتا ہے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتا بھی نہیں اور پھر امیدیں لمبی باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ جیسے میں یہاں ہوں ویسے ہی وہاں بھی رہوں گا۔
پھر ان لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ’ جن کے یہ اعمال و عقائد ہوں انہیں ہم سخت سزا دیں گے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ جب انسان اللہ کی نعمتیں پا لیتا ہے تو اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور ماننے سے جی چراتا ہے ‘۔ جیسے فرمایا «فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:39] ’ اور جب اسے کچھ نقصان پہنچتا ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے بیٹھ جاتا ہے ‘۔ ”عریض کلام“ اسے کہتے ہیں جس کے الفاظ بہت زیادہ ہوں اور معنی بہت کم ہوں۔ اور جو کلام اس کے خلاف ہو یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور معنی زیادہ ہوں تو اسے ”وجیز کلام“ کہتے ہیں۔ وہ بہت کم اور بہت کافی ہوتا ہے۔
اسی مضمون کو اور جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے «وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:12]، ’ جب انسان کو مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر لیٹ کر اور بیٹھ کر اور اکٹھے ہو کر غرض ہر وقت ہم سے مناجات کرتا رہتا ہے اور جب وہ تکلیف ہم دور کر دیتے ہیں تو اس بےپرواہی سے چلا جاتا ہے کہ گویا اس مصیبت کے وقت اس نے ہمیں پکارا ہی نہ تھا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبارٌ عن طبيعة الإنسان من حيثُ هو، وعدم صبرِه وجَلَدِه، لا على الخير ولا على الشرِّ، إلاَّ مَن نقله الله من هذه الحال إلى حال الكمال، فقال: {لا يسأمُ الإنسانُ من دعاءِ الخيرِ}؛ أي: لا يملُّ دائماً من دعاء الله في الغنى والمال والولدِ وغير ذلك من مطالب الدُّنيا، ولا يزال يعملُ على ذلك، ولا يقتنعُ بقليل ولا بكثيرٍ منها؛ فلو حصل له من الدُّنيا ما حصل؛ لم يزل طالباً للزيادة. {وإن مَسَّهُ الشرُّ}؛ أي: المكروه كالمرض والفقر وأنواع البلايا، {فَيؤوسٌ قنوطٌ}؛ أي: ييأس من رحمة الله تعالى، ويظنُّ أن هذا البلاء هو القاضي عليه بالهلاكِ، ويتشوَّشُ من إتيان الأسبابِ على غير ما يحبُّ ويطلبُ؛ إلاَّ الذين آمنوا وعملوا الصالحات؛ فإنَّهم إذا أصابهم الخيرُ والنعمةُ والمحابُّ؛ شكروا الله تعالى، وخافوا أن تكونَ نعمُ الله عليهم استدراجاً وإمهالاً، وإن أصابتْهم مصيبةٌ في أنفسهم وأموالهم وأولادِهم؛ صبروا ورَجَوا فضل ربِّهم فلم ييأسوا.